ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کورونا وائرس کا قہر جاری: کرناٹک کی بھی صورتحال دھماکہ خیز، تیسرے مرحلہ میں داخلے کا خدشہ

کورونا وائرس کا قہر جاری: کرناٹک کی بھی صورتحال دھماکہ خیز، تیسرے مرحلہ میں داخلے کا خدشہ

Fri, 27 Mar 2020 19:47:24    S.O. News Service

بنگلورو،27؍مارچ (ایس او نیوز) کرناٹک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ کے پیش نظر یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ ریاست میں اگرمریضوں کی تعداد میں اضافے کی یہی رفتار برقرار رہی تو جلد ہی یہ تیسرے مرحلے میں داخل ہوجائے گی۔

جمعرات کے روز مزید چار مریضوں میں کورونا کی تصدیق کے ساتھ کرناٹک میں مصدقہ معاملات کی تعداد 55 تک پہنچ گئی ۔ ان میں میسورو کے دو معاملات شامل ہیں۔اس ضلع میں جملہ 900 افراد کو الگ تھلگ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اس دوران کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن کا فائدہ اٹھا کر اگر کسی نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ وارننگ جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا نے دی ۔

تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کے ساتھ لاک ڈاؤن کی صورت حال پر ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں کورونا وائرس کے متاثرین کو داخل کرنے کے لئے 50 بستروں پر مشتمل ایک خصوصی اسپتال قائم کیا جائے۔

ودھان سودھا کی کمیٹی ررم میں ہوئی اس ویڈیو کانفرنس میں وزیر اعلیٰ نے تمام اضلاع کے دپٹی کمشرنوں سے وہاں کے اتنظامات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس ویڈیو کانفرنس کے دوران انہوں نے اضلاع کے ڈپٹی کمشروں کو متعد ہدایتیں دیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم نے جو 21؍ روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے اس کو سختی سے نافذ کیا جائے۔ لاک ڈاؤن کو توڑ کر جو لوگ سڑکوں پر بے وجہ نکلیں گے ان تمام کو گرفتارکر لیا جائے۔

وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا نے ہدایت دی کہ تمام اضلاع کی سرحدوں کو بند کردیا جائے۔ خاص طور پر منگلورو۔ کاسرگوڈ سرحد سے آنے جانے والوں کی سخت نگرانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں سینیٹائز فراہم کرنے کے لئے حکومت نے بعض ڈسٹلریز سے بات کی ہے۔ ان میں سے چند سینٹائز مفت فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ حکومت یہ کوشش کررہی ہے کہ ان کمپنیوں سے بات کرکے سینٹائز مہیا کروانے کے لئے ضروری اقدام ٓتھائے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران کسی بھی کلینک کو بند رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ اگر کوئی نجی کلینک بند پائے گئے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت دی ہے کہ ضروری چیزیں اگر ممکن ہو تو عوام کے گھروں تک پہنچائی جائیں۔ اس ویڈیو کانفرنس کے بعد وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر سدھاکر نے کہا کہ مرکزی حکومت کی ہدایت کی بنیاد پر حکومت نے کورونا وائرس سے نپٹنے کے لئے سہ رخی فارمولہ اپنایا ہے جسے تین ‘ٹی’ فارمولہ بھی کہا جائے گا۔ اس کےتحت ٹریس، ٹیسٹ اینڈ ٹریٹمنٹ پر توجہ دی جائے گی۔ مشتبہ کورونا معاملوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ کے لئے امداد مہیا کروائیں۔  


Share: